اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد افراد بھارت کی مختلف جیلوں میں جھوٹے مقدمات میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد میں اکثر یت کشمیری نوجوانوں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پروفیسر بھیم سنگھ نے عدالت اعظمیٰ کی بتایا کہ 28 کشمیری عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور ان میں سے اکثر نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قیدیوں میں سے نہ صرف وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں بلکہ جموں کے مختلف علاقوں کے رہائشی بھی ان میں موجود ہیں اور انہیں انتہائی تنگ و تاریک سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ بھیم سنگھ کا کہنا تھا کہ صرف واراناسائی جیل میں 15 کشمیری نوجوانوں گزشتہ کئی برس سے قید ہیں اور ان سب کا تعلق راجوری سے ہے۔ انہوں نے کہا کشمیری نوجوانوں کی واراناسائی، احمد آباد، نائینی، ممبئی، الہ آباد، مدھیہ پردیس، راجستھان، وادوڈارہ، بنگلور، جے پور، لکھنؤ اور دیگر علاقوں کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ بھیم سنگھ نے کہا کہ انہوں نے جیلوں میں بند جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی اصل تعداد اور دیگر تفصیلات سے آگاہی کے لیے سپریم کورٹ میں ایک عرض داشت دائر کردی تھی جسکا انہیں تاحال کوئی باقاعدہ جواب نہیں ملا ہے تاہم چند قیدیوں سے ذاتی رابطے کی بنا پر وہ یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستانی جیلوں میں اس وقت 300 سے زائد کشمیری موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169